صفت
صفت اردو گرامر کا ایک اہم جزو ہے جو لفظوں کی خصوصیات کی بیان کرتا ہے۔ صفت کے ذریعے ، لفظوں کی خاصیت کی وضاحت کی جاتی ہے۔ صفت کی تعریف درج ذیل ہے:
صفت وہ لفظ ہے جو کسی چیز کی حالت ، خاصیت ، صفت ، نکتہ نظر ، کاروبار اور متعدد دیگر خصوصیات بیان کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ صفت وہ لفظ ہے جو عموماً اسم کے سے پہلے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، "سفید گاڑی” میں "سفید” صفت ہے جو "گاڑی” کی خاصیت بیان کرتا ہے۔ صفت ایک نوع کلمہ ہے جو کسی اسم کی خصوصیت کی بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، "خوشبو دار گلاب” میں "خوشبو دار” ایک صفت ہے جو "گلاب” کی خصوصیت کی بیان کرتا ہے۔
صفت کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ زبان میں تصویریت بکھیرتا ہے اور بولنے والے کی بات کو واضح بناتا ہے۔ اس کے علاوہ ، صفت کے بغیر اردو زبان میں تفصیلی اور زیبائشی تصویر نہیں بنائی جاسکتی ہے۔
تمیز
کسی اسم، فعل یا جملے سے شک یا ابہام دور کرنے والے الفاظ تمیز کہلاتے ہیں۔ فعل یا صفت کی کیفیت بیان کرنے کے لیے تمیز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تمیز کے استعمال سے فعل یا صفت کے معنوں میں کمی یا بیشی واقع ہوتی ہے۔
اسکی اقسام یہ ہیں؛
تمیز برائے زماں: وقت یا زمانے کے لیے یہ الفاظ تمیز کا کام دیتے ہیں۔
اب، جب، کب، آگے، پیچھے، پہلے، آج، پرسوں، کل، تڑکے، ترنت، سدا، سویرے، پھر، ہمیشہ، جلد، جلدی، یکا یک، اچانک، ناگاہ، بعد، بعد ازاں اور شب و روز وغیرہ
تمیز برائے مکاں: جگہ یا مقام کے لیے یہ الفاظ تمیز کا کام دیتے ہیں۔
یہاں، وہاں، جہاں، تہاں، کہاں، آگے، پیچھے، پرے، ورے، پاس، اوپر، نیچے، بھیتر، باہر ، اندر وغیرہ تمیز مکانی کے لیے استعمال ہوتےہیں۔
تمیز برائے سمت: سمت کے لیے یہ الفاظ تمیز کا کام دیتے ہیں۔
اِدھر، اُدھر، جِدھر، تدھر، کدھر
تمیز برائےطور و طریقہ: یہ تمیز برتاؤ یا طریقے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
یوں، جوں، کیوں، کیوں کر، کیسے، ٹھیک، اچانک، دھیرے، ہولے، لگاتار، برابر، تابڑ توڑ، سچ مچ، جھوٹ موٹ، تھوڑا، جھٹ پٹ، بہت، ذرا، تخمیناً، تقریباً، خصوصاً، زیادہ، بالکل، مطلق، بعینہ، بجنسہ، ہر چند، سوا، حسبہ، یعنی، من و عن، باہم، فوراً، دفعتاً، یکا یک، فی الفور، القصہ، الغرض، فی الجملہ وغیرہ
تمیز برائےتعداد: تمیز تعدادکے لیے یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
ایک بار، دو بار، اکژ، ایک ایک، دو دو، اتنا، کتنا، جتنا وغیرہ
تمیز برائے ایجاب و انکار: کسی فعل یا صفت کے اقرار یا انکار کے لیے یہ الفاظ تمیز کا کام دیتے ہیں۔
ہاں ، جی، ہاں جی، جی ہاں، نہیں، تو، شاید، غالباً، یقیناً، بیشک، بلا شبہ، ہرگز، زنہار، بارے، البتہ، فی الحقیقت، در حقیقت۔
تمیز مرکب: بعض اوقات دو تمیز مل کر ایک تمیز کا کام دیتی ہیں۔ جیسے
کب تک، جب کبھی، جہاں کہیں، جہاں جہاں، کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی، ادھر ادھر، اندر باہر، جب جب، کہیں کہیں۔
تمیز سبب و علّت: وجہ یا سبب کے اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اس لئے، اس طرح، چنانچہ، کیونکہ، لہٰذا۔
تمیز بطور جزو جملہ: بعض اوقات ایک ایک یا دو دو الفاظ ملکر بطور جزو جملہ کے تمیز کا کام دیتے ہیں۔ جیسے
رفتہ رفتہ، خوشی خوشی، ایک ایک، روز روز، آئے دن، گھڑی گھڑی، ہونہو، دھوم دھام، آس پاس، جم جم، اطراف و جوانب، نت نت، کیوں نہیں، الگ الگ، صبح و شام، آہستہ آہستہ، جوں جوں، جوں توں۔ کما حقّہ، حتی الامکان، کما ینبغی، من و عن، حتی المقدور، حاصل کلام، طوعاً و کرہاً، آخر الامر وغیرہ۔
تمیز بزریعہ ”سے اور تک“: کبھی تمیز یا اسم کے بعد ”سے’ تک’ میں“ وغیرہ آنے سے تمیز بن جاتی ہے۔ جیسے
کب تک، بھولے سے، پھرتی سے، اتنے میں، فارسی کی (ب) لگانے سے بخوشی، بخوبی، بدل و جان۔ وغیرہ
تمیز بذریعہ”وار“: کچھ اسم ”وار“ کے ساتھ مل کر تمیز کے معنی دیتے ہیں۔
تفصیل وار، ہفتہ وار، ماہوار، نمبر وار وغیرہ
تمیز بذریعہ صفت: بعض الفاظ صفات بھی تمیز کا کام دیتے ہیں۔ مثلاً
خوب، ٹھیک، بجا، درست وغیرہ
تمیز برائے کثرت: ”ہزار“ اور ”لاکھ“ کثرت کے معنوں میں تمیز کا کام دیتے ہیں۔ جیسے
میرے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ باز نہ آیا۔ اس نے ہزار سر مارا پر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔
تمیز بذریعہ اسمائے عام: کبھی اسمائے عام بھی تمیز کے معنوں میں آتے ہیں۔ جیسے
بھوکوں مرتا ہے۔ جھوٹوں بھی نہ پوچھا۔ انگلوں بڑھتا ہے۔ بانسوں اچھلتا ہے۔ گھٹنوں چلتا ہے۔ (یہ سب الفاظ حالت جمع میں استعمال ہوتے ہیں)
تمیز بذریعہ حالیہ معطوفہ: کبھی کبھی حالیہ معطوفہ بھی تمیز کا کام دیتے ہیں۔ جیسے
کھلکھلا کر ہنسا۔ بلبلا کر رویا۔ تلملا کر کہا۔
Nice
جواب دیںحذف کریںبہت خوب
یہ بہت شاندار اصول و ضوابط بتائے گئے ہیں اردو زبان کے۔ اور اکثر لوگ تحریر میں ان باتوں کا دھیان نہیں رکھتے۔
جواب دیںحذف کریں