بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اصلی جوہر
میرے پیر و مرشد قبلہ میاں محمد مظہر احسان نقشبندی مجددی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ، "انسان کا اصلی جوہر روح ہے اور روح اللہ تعالیٰ کا امر ہے اس لئے نہ خالق ہے نہ مخلوق ہے۔ یہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان واسطہ ہے۔ ہر انسان نفس اور روح سے مرکب ہے۔ جب نفس غالب آتا ہے تو نفس کے لوازمات اس پر سوار ہو جاتے ہیں۔ نفس کی خواہشات سے ہی بغض، کینہ، حسد، بے حیائی، اسلام سے بے رغبتی، لڑائی، فساد، والدین کی بے ادبی، اسلام اور اس کے شعائر سے نفرت یا بے رغبتی پیدا ہوتی ہے۔ جب نفس سوار ہو جاتا ہے تو شہوت پرستی عام ہو جاتی ہے۔
دوسرا جز روح ہے۔ روح کو روح کی غذا یعنی احکام الٰہی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ذکر سے تقویت ملتی ہے۔ جب نفس مغلوب ہو گیا تو تمام نفسانی خواہشات اور حرکات سے بچ نکلا۔ صرف روح کی غذا باقی رہ گئی، روح قوی ہوتی چلی گئی اور اس نے اپنے اصل کی طرف لوٹنا شروع کیا۔ پاکیزگی، حیاداری، صدق و صفا اور ادب اس کا شعار بنا۔ اسلامی شعائر کو تقویت حاصل ہوئی جس کے سبب نبی کریم ﷺ راضی ہوئے۔ روحانیت کامل ہوئی، روحانیت اپنے اصل یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹی۔ بلند درجات ملے۔ اس کے زوال کا خاتمہ ہوا اور عروج نصیب ہوا۔"
![]() |
حاضری
آج کی محفل میں معظم نوری، جنید نوری، سہیل نوری، رافع نوری، صادق نوری، مظفر نوری اور عماد نوری نہیں آئے۔ صرف عماد نوری اور صادق نوری نے اپنے نہ آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ جب کہ باقی ساتھیوں کے نہ آنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام ساتھیوں کے ساتھ آسانی فرمائے اور ان کی مشکلات حل فرمائے آمین ثم آمین!
خود کو پہچانو
آج اندر سے طبیعت بہت بے چین ہے۔ آستانہ بہت یاد آ رہا ہے۔ پورے ہفتے میں چند ایک واقعات ایسے رونما ہوئے جس کی وجہ سے دل بہت مغموم ہوا۔ عشاء کی نماز پڑھ کر عاجز آستانہ نوری کی جانب چل پڑا۔ آستانہ نوری کی نرم آغوش سے لپٹ کر دل پر چھائی بے چینی اور غم کی کیفیت سنبھل گئی۔ آستانہ نوری کسی دھلائی مشین کی طرح ہم سے جانے انجانے میں ہونے والے گناہوں کی گرد چھاٹ کر ہم کو فیض کا تازہ غسل دیتا ہے جس سے ہر قسم کی تکلیف، بے چینی اور اضطرابیت دھل جاتی ہے۔
پونے نو بجے شیخ محترم تشریف لے آئے۔ ان کے آنے سے دل کی اضطراری کیفیت مکمل سنبھل گئی۔ اسد نوری اور عاجز سے شیخ محترم نے خیریت دریافت فرمائی۔ اسی دوران آستانے میں عماد نوری کے بڑے بھائی عمیر نوری تشریف لے آئے۔ شیخ محترم نے انہیں بہت محبت بھرا پروٹوکول دیا۔ جسے انہوں نے بہت عاجزی سے قبول کیا۔ پھر شیخ محترم فرمانے لگے کہ، "ہمارے مسلمانوں میں بہت سے لوگ کفار کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ایک سے ایک نئی چیز ایجاد کی ہے جب کہ مسلمانوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ بات بہت غلط ہے۔ ہمارے اکابرین نے مادی چیزوں پر نہیں بلکہ باطن پر کام کیا ہے۔
جنگلی جانوروں کی خوراک جنگل سے حاصل ہوتی ہے۔ انسانی جسم کی خوراک زمین سے حاصل ہوتی ہے۔ انسان عالم امر اور عالم دنیا دونوں کا مجموعہ ہے۔ روح اللہ کے امر سے ہے۔ لہٰذا روح کی خوراک احکام الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا اس کے مان لینے میں ہی روح کی فلاح ہے۔ ساری دنیا مادہ پرست ہے اور زندگی بھر دنیا کے پیچھے بھاگ رہی ہے جب کہ ہمارے اکابرین ساری زندگی اپنی روح کو احکام الٰہی اور سنت رسول ﷺ کے پانی سے سینچتے رہے۔ روح کبھی فنا نہیں ہوتی۔ انسانی جسم فنا ہو جاتا ہے۔ روح چونکہ اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے اسی لیے اسے فنا نہیں ہے۔
روح کی کامیابی میں انسان کی کامیابی ہے۔ اس لیے علامہ نے کہا ہے کہ، "اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی۔" اسی ضمن میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ ایک جوہری تھا جس کے پاس بیش قیمتی ہیرا تھا۔ جسے نمائش کے لیے دوسرے شہر لے کر جانا تھا۔ ایک چور کو پتہ چل گیا کہ جوہری کے پاس وہ گوہر نایاب ہے جسے وہ نمائش کے لیے دوسرے شہر لے کر جا رہا ہے۔ چور بھی اس ٹرین پر سوار ہو گیا۔ جوہری سے سلام دعا بڑھائی اور اس کے ساتھ ہی سفر کرنے لگا۔ جوہری بھی کوئی عام جوہری نہیں تھا۔ اتنے قیمتی ہیرے کے ساتھ سفر کرنے والا عام انسان کیسے ہو سکتا ہے۔
جوہری سمجھ گیا تھا کہ میرے ساتھ گھلنے ملنے والا ایک چور ہے۔ رات ہونے سے پہلے جوہری نے چپکے سے ہیرا چور کی جیب میں ڈال دیا۔ رات ہوئی چور نے جوہری کا سارا سامان کھنگال ڈالا اسے ہیرا کہیں نہیں ملا۔ انسان کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنا آپ چھوڑ کر سب جگہ چیز ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ دو دن گزر گئے۔ جوہری رات میں چور کے جیب میں ہیرا ڈال دیتا اور صبح چپکے سے واپس نکال لیتا۔
بالآخر ہیرا نہ ملنے پر تنگ آ کر چور نے صبح جوہری کو غصے میں دھونس دیتے ہوئے کہہ دیا، " میں چور ہوں اور مجھے معلوم ہوا تھا تمہارے پاس ایک نایاب ہیرا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ میں اسے ڈھونڈ نہیں پایا۔ اب تم ہی بتا دو ہیرا کہاں ہے؟" جوہری چور کی بات سن کر مسکرایا اور کہنے لگا، "میں شروع سے ہی جانتا ہوں کہ تم چور ہو اور تم میرا نایاب ہیرا چرانے ٹرین میں آئے ہو۔ میں روزانہ چپکے سے رات میں وہ ہیرا تمہاری قمیض کی جیب میں ڈال دیتا تھا اور خاموشی سے صبح نکال لیتا تھا۔ وہ ہیرا تمہاری جیب میں ہی موجود تھا لیکن تم اس کا احساس تک نہ کر سکے۔"
اسی طرح انسان کے اندر موجود جوہر روح انسان لے کر گھوم رہا ہے لیکن اسے اس کا ادراک نہیں ہے۔ انسان کی تمام پریشانیوں کا حل، انسان کو پستی سے نکال کر عروج پر لے جانے والی کنجی اس کے اپنے پاس ہے۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کر لیتا ہے اس کی روح قوی ہوتی چلی جاتی ہے۔ جس انسان کی روح طاقت ور ہو جاتی ہے تو ایسے انسان پر زوال نہیں آتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی روح کو پروان چڑھانے کے لیے تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کریں۔ ان شاءاللہ بلندی مقدر بنے گی۔"
بوجھ
شیخ محترم فرمانے لگے، "اعظم صاحب کے پاس ایک شخص آیا جو کہ کسی امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ کہنے لگا، "حضرت میں جب بھی اپنے کمرے میں داخل ہوتا ہوں مجھے اتنا شدید بوجھ اپنے جسم پر محسوس ہوتا ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر پاتا ہوں۔ کوئی وظیفہ بتا دیں۔" اعظم صاحب نے اسے درود شریف پڑھنے کا کہا۔ چند دن بعد وہ پھر آیا۔ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ اعظم صاحب سے کہنے لگا، "تکلیف مزید بڑھ گئی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟" اعظم صاحب کہنے لگے اچھا ٹھیک ہے میں تمہارے گھر آتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کیا بہتری آ سکتی ہے۔
کچھ دن بعد اعظم صاحب اس شخص کے گھر تشریف لے گئے۔ گھر اس کا بہت شاندار تھا۔ جیسے عموماً پیسے والے لوگوں کا ہوتا ہے۔ اعظم صاحب نے اسے کہا، "چلو مجھے اپنے کمرے کی طرف لے کر۔" پھر اعظم صاحب اور وہ شخص اس کے کمرے کی جانب بڑھنے لگے۔ اعظم صاحب نے جیسے ہی اس کے کمرے میں قدم رکھا اور وہاں کا جائزہ لیا اسے دیکھ کر اعظم صاحب فوراً کمرے سے باہر آ گئے۔ کمرے میں تین چار برہنہ بیش قیمتی بت رکھے ہوئے تھے اور اس کے بستر پر انتہائی فحش مناظر کی چادر بچھی ہوئی تھی۔
اعظم صاحب نے کمرے سے باہر نکل کر اس شخص کو بہت ڈانٹا۔ اپنے کمرے میں تم نے برہنہ شیطان جمع کر رکھے ہیں اور کہتے ہو مجھے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ میری اپنی حالت بھی تمہارے کمرے میں آ کر بوجھل ہو گئی۔ فوراً اپنے کمرے سے یہ بت نکال کر باہر پھینکو اور یہ گندی چادر جو تم نے اپنے بستر پر بچھائی ہوئی ہے اسے بھی فی الفور پھینکو۔ اعظم صاحب نے اس شخص کے گھر والوں کو کہہ دیا اس شخص کے اوپر آنے والا بوجھ خود اس کا پالا ہوا ہے۔ جو میں نے کہا ہے اس پر عمل کر لے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
شیر جب دھاڑتا ہے
شیخ محترم نے ہم سے سوال کیا، "شیر جب دھاڑتا ہے تو کیا کہتا ہے؟" عاجز نے جواب دیا، "اپنی بادشاہی کا اعلان کرتا ہے۔" شیخ محترم ناراض ہو کر فرمانے لگے، "بس یہی نفس کی اکڑ اور خرابی ہوتی ہے۔ جواب نہیں آتا لیکن اسے تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا آسان سا جواب تھا، مجھے نہیں معلوم ہے۔ برائے مہربانی آپ ہی روشنی ڈال دیں۔" جس سوال کا جواب آتا ہے اس کا سیدھا اور درست جواب دینا سیکھو۔ جس کی خلقت سیدھی ہوتی ہے اس کی بات بھی سادی اور سیدھی ہوتی ہے۔
شیر جب دھاڑتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھ سے کسی مظلوم پر ظلم نہ ہو جائے ایسے ظلم سے مجھے محفوظ فرما۔" جنگل کا شیر دھاڑ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ اب دیکھو آج سے پہلے کبھی آپ لوگوں نے یہ بات سنی تھی؟ نہیں سنی تھی۔ اسی لیے آپ کو فوراً کہہ دینا چاہیے تھا ہمیں نہیں معلوم۔ اس سے نفس کو تکلیف تو ہوتی ہے کہ میری اکڑ کم ہو رہی ہے۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے علم میں گراں قدر اضافہ ہو جاتا۔"
خفیہ عہد و پیمان
قبلہ شیخ محترم فرمانے لگے، "میں اپنے تمام ساتھیوں کو یہ تنبیہہ کرتا ہوں کہ وہ شادی شدہ افراد جن کے بچے شادی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں یا پہنچنے والے ہیں، یا آستانے سے تعلق رکھنے والے کم عمر ساتھی۔ آپ تمام لوگ میری یہ بات اچھی ذہن نشین کر لیں کہ کسی بھی لڑکی سے موبائل پر خفیہ معاشقے نہیں کرنے ہیں۔ آج کی لڑکیاں بہت تیز ہیں اور وہ باقاعدہ اپنے حسن اور لچھے دار باتوں سے لڑکوں کو اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں بھی ہرگز موبائل پر کوئی خفیہ عاشق نہ پالیں۔ آج کے لڑکے بھی بہت خراب ہیں۔ دس لڑکیوں سے اپنی جبلت کی تسکین کے لیے چکر چلایا ہوا ہوتا ہے۔
کوئی لڑکا یا لڑکی ہرگز کسی سے خفیہ عہد و پیمان نہیں کرے گا۔ ہم نے اپنے کسی ساتھی کو دھوکہ دینا نہیں سکھایا ہے۔ ہمارے گھر کے لڑکے، لڑکیاں بہت سادہ ہیں۔ آپ والدین بھی یہ اچھی طرح سن لیں کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ہرگز ہرگز ان کے خفیہ عہد پر شادی نہ کریں۔ شادی والدین کی مرضی سے ہوگی۔ اسی میں کامیابی ہے۔ اب تک آپ لوگوں نے کتنی شادیاں جو بھاگ کر ہوئیں یا ماں باپ کی مرضی کے خلاف ہوئی کامیاب ہوتی دیکھی ہیں؟ اس کا جواب آپ سب جانتے ہیں۔ اکثریت ایسی شادیاں ناکام ہی ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی لڑکی/لڑکا سے کوئی خفیہ وعدے نہیں۔"
پیغام
آج کی احوالِ محفل سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں اپنے باطن کو چمکانا ہے۔ اپنے ظاہر پر صرف اتنی ہی توجہ دینی ہے کہ وہ صحت مند رہے جس سے وہ عبادت اور روزی روٹی کے لیے مشقت برداشت کر سکے۔ صحت مند جسم عبادت، ریاضت اور مشقت برداشت کرنے کا ذریعہ ہے جس سے روح طاقت ور ہوگی۔ روح کی تقویت ہمارا عروج ہے۔ توبہ استغفار کر کے اپنے اوپر سے گناہوں کا بوجھ اتاریں۔ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو انجانے میں ہو رہے ہوتے ہیں اور یہ گناہ روح اور جسم پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اگلی محفل کے احوال تک اجازت فی امان اللہ!
Characters: 8990
Words:2000

ماشاء اللہ۔
جواب دیںحذف کریں