ہفتہ، 6 مئی، 2023

ذاکر اور عامل

 ذاکر اور عامل

نفع کیسے حاصل ہوتا ہے؟

آپ جب بھی کسی قسم کا کوئی نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کچھ کام کرتے ہیں۔ کام پورا ہونے پر آپ کو ضرور نفع ہوتا ہے۔ آپ کو بازار جانا ہے تو آپ چلنا شروع کردیتے ہیں اور آخرِ کار جب چلنے کا کام پورا ہوجاتا ہے تو آپ کو نفع مل جاتا ہے یعنی آپ بازار پہنچ جاتے ہیں۔ نفع کام کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ 

وظیفہ کسے کہتے ہیں؟

جب آپ کوئی کام بار بار کرتے ہیں تو یہ بار بار کیا جانے والا کام وظیفہ کہلاتا ہے۔ روحانیت کے تمام سلسلوں میں وظائف کی بہت اہمیت ہے۔ اس لئے روحانی سلسلوں میں کثرت سے وظائف کئے جاتے ہیں۔ اور اسی لئے تصوف کے جتنے سلاسل ہیں اس میں اسی کا درجہ زیادہ سمجھا جاتا ہے جو کثرت سے وظائف ادا کرنے والا ہو۔ 

عامل اور ذاکر

عامل اور ذاکر دونوں ہی کثرت سے وظیفہ کرتے ہیں۔ یہ کثرت ان کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔ دیکھنے والوں کو دونوں ایک جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں کہ دونوں ہی کچھ پڑھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن ان کے درمیان بہت فرق ہے۔

جب آپ اپنے وظیفے سے دنیاوی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؛ جیسے کسی خوبصورت محبوب یا محبوبہ کو حاصل کرنا، دشمن پر فتح چاہنا، قید سے نجات، دولت کی فراوانی، حاسدین کی زبان بندی، کھویا ہوا مال واپس حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ تو اس مقصد سے پڑھنے والا عموماً عامل کہلاتا ہے۔

بعض اوقات عاملین کسی دوسرے شخص کے لئے یہی کام پیسوں یا فیس کے عوض کرتے ہیں یا لوگوں میں "بابا" مشہور ہونا چاہتے ہیں تو یہ بھی چونکہ دنیاوی مقصد ہے اس لئے ایسا شخص بھی عامل کہلاتا ہے۔ 

ذاکر بھی کثرے کے ساتھ وظائف ادا کرتا ہے اور کچھ نہ کچھ پڑھنے میں مصروف رہتا ہے، لیکن اسا کا مقصود اللہ کا ذکر اور اس کی یاد سے اپنی زبان اور دل کو تر رکھنا ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ (اللہ کی حمد و) ثناء کرنا مؤمن کی بہار ہے۔ اس حدیثِ پاک میں انسانی زندگی کو شجر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس درخت کی بہار اللہ کی یاد اور اس کے مقدس ذکر کو قرار دیا گیا ہے۔

ایک شخص نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اسلامی احکام بہت کثیر ہیں جنہیں یاد رکھنا میرے لئے مشکل امر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیں جسے میں (زندگی بھر) بآسانی یاد رکھ سکوں۔ نبی مکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم، وسیلۂ اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)  نے ارشاد فرمایا:  تجھے اس حال میں موت آئے کہ تیری زبان اللہ (جَلَّ جَلالُہٗ وَ عَمَّ نَوالُہٗ) کے ذکر سے تَر ہو۔

ذکر کرنا بھی ایک کام ہے۔ لیکن اس سے مقصود دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا نفع اٹھانا ہے۔ 

ذاکر کا مقصود اللہ کی رضا، حصولِ جنت، جہنم سے نجات، اعلیٰ اخلاق کا حصول، نیکیوں پر ہمیشگی اور مداومت، گناہوں سے پرہیز، شیطان کے مکر و فریب سے نجات، اپنے اوقات کو نیکی میں بسر کرنا، نعمتوں پر شکر اور تکالیف پر صبر وغیرہ ہوتا ہے۔ 

اس کا سادہ سا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب اخلاص اور للٰہیت کے ساتھ کوئی وظیفہ سر انجام دیا جائے تو وہ ذکر ہوتا ہے اور اس کا کرنے والا ذکر کہلاتا ہے نہ کہ عامل۔ 

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ قرآن حدیث میں اس ذکر کے بیحد فضائل گنوائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مصروفِ جہاد مجاہد سے نرم گدیلوں پر اللہ کے ذکر کرنے والے کی فضیلت بتائی گئی ہے۔ 

کہیں تلاوتِ قرآن کی ترغیب دلائی گئی ہے، کہیں دعا کے فضائل بیان کئے گئے ہیں، کہیں استغفار کی رغبت اور شوق دلایا گیا ہے، کہیں تسبیح کی تعریف کی گئی ہے، کہیں صبح و شام اور رات کے اذکار کا ذکر ہے، کہیں بادل کے گرجنے کی دعا کی تلقین کی گئی ہے؛ الغرض یہ وظائف کسی سے پوشیدہ نہیں، جو چاہے اذکارِ مسنونہ کی کسی بھی کتاب کی طرف اس بارے میں رجوع کرسکتا ہے۔ 

اور صرف یہی نہیں بلکہ خود قرآنِ پاک کی سورتوں کی تلاوت کی زبردست ترغیب دلائی گئی ہے جیسے یاسین شریف کو قرآنِ پاک کا دل فرمایا گیا اور اس کی تلاوت کو دس قرآنِ پاک کی تلاوت کے مساوی قراد دیا گیا۔ کہیں سورتِ فاتحہ کو شافیہ قرار دیا گیا، کہیں سورت اخلاص کو تہائی قرآن کے برابر کہا گیا۔ الغرض یہ ایک طویل فہرست ہے جس میں ذکر پر آمادہ کیا گیا ہے۔ 


حافظا می خور و رندی کن و خوش باش ولی

دام تزویر مکن چون دگران قرآن را


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں